31 اکتوبر 2011 - 20:30

سلامتی کونسل کے مطابق لیبیا میں موجود راکٹس مسافر بردار طیاروں کے لیے خطرہ ہیں۔

ابنا: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے لیبیا میں کرنل معمر قذافی کے دورِ اقتدار میں جمع ہو جانے والے ہتھیاروں کے ذخیرے کے مستقبل کی بابت شدید خدشات کا اظہار کیا ہے۔سلامتی کونسل نے لیبیا اور اس کے ہمسایہ ممالک سے کہا ہے کہ لُوٹے گئے اسلحے کے پھیلاؤ کو روکیں کیونکہ خدشہ ہے کہ یہ اسلحہ القاعدہ یا دوسرے شدت پسند گروہوں کے ہاتھ لگ سکتا ہے۔

نیٹو نے قبضے میں لیے گئے کئی ہتھیار تباہ کر دیے ہیں تاہم حکام کے مطابق ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ کتنے ہتھیار اب بھی لیبیا میں لوگوں کے پاس موجود ہیں۔اقوامِ متحدہ میں روس نے قرار داد پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔ قرار داد میں کہا گیا تھا کہ کرنل قذافی کے دور میں جمع کیے گئے انسانی کندھے پر رکھ کر فضاء میں ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل اب بھی مسافر طیاروں کے لیے ایک خطرہ بن سکتے ہیں۔قرار داد میں لیبیا کے حکام سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک میں موجود کیمیائی ہتھیاروں کو بین الالقوامی فوج کی مدد سے تباہ کیا جائے۔لیبیا میں موجود اسلحے میں زیادہ تر روایتی سوویت طرز کے راکٹ ہیں جو مسافر تیاروں کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ سلامتی کونسل کی قرارداد میں لیبیا کی حکومت سے کہا گیا ہے وہ اسلحے کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرے جبکہ ہمسایہ ممالک سے کہا ہے کہ وہ اسلحے کی سمگلنگ کو روکنے کے لیے قدم اٹھائیں۔ہمارے نامہ نگار کہ مطابق کرنل قذافی کے اسلحے کے کئی ذخیروں کو نیٹو نے تباہ کردیا ہے تاہم اب بھی کئی باقی ہیں اور یہ بھی واضح نہیں ہے کہ کتنا اسلحہ موجود ہے اور کس حد تک اس کی ترسیل جاری ہے۔گذشتہ ہفتے سلامتی کونسل کو بتایا گیا تھا کہ بین الاقوامی معائنہ کار لیبیا میں اسلحے کے ذخیروں کی نشاندہی کر رہے ہیں تاہم اب بھی کئی مشتبہ مقامات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔اس وقت لیبیا میں پندرہ امریکی ماہرین موجود ہیں اور امید کی جارہی ہے کہ اسلحے کی تلاش کے لیے ایک سو کے قریب بین الاقوامی ماہرین لیبیا جائیں گے۔یہ قرار داد ایسے وقت منظور کی گئی ہے جب نیٹو نے لیبیا میں اپنا مشن باقاعدہ طور پر ختم کر دیا ہے۔لیبیا میں نیٹو کی کارروائی اقوامِ متحدہ کے مینڈیٹ کے مطابق عام شہریوں کے تحفظ کے لیے انیس مارچ کو اُس وقت شروع ہوئی جب کرنل قذافی کی فوجوں نے بغاوت کو کچلنے کے لیے بن غازی شہر کا گھیراؤ کیا۔نیٹو کے جہازوں نے مجموعی طور پر چھبیس ہزار پروازیں کیں جن میں دس ہزار فضائی حملے کے لیے تھیں۔ نیٹو نے اپنی کارروائی کے دوران کرنل قذافی کی کمانڈ اینڈ کنٹرول کے ایک ہزار ٹینک، گاڑیاں اور توپیں تباہ کیں۔نیٹو کے سربراہ اینرس فو راسموسین نے جو مشن کے خاتمے کے لیے طرابلس میں تھے کہا ہے ’نیٹو کی فوج نے قتل عام کو روکا ہے اور بے شمار جانیں بچائی ہیں۔‘انہوں نے کہا کہ اگر درخواست کی جائے تو نیٹو لیبیا میں جمہوریت اور نئی حکومت کے قیام میں مدد دے سکتا ہے۔راسموسین نے لیبیا کی قومی عبوری کونسل کے رہنماؤں سے ملاقات کی ہے اور لیبیا کے مستقبل اور جمہوری حکومت کے قیام کے طریقۂ کار پر بات چیت کی۔اس موقع پر این ٹی سی کے چیئرمین مصطفٰی عبدالجلیل نے لیبیا کی جانب سے نہ صرف نیٹو اور بین الاقوامی فورسز بلکہ باغی فورسز کا بھی شکریہ ادا کیا۔...........

/169